Why Allah Created Jinn? Jinn Possession in Islam | Djinn
**اللہ نے جنات کو کیوں پیدا کیا؟ جنات کی حقیقت اور اس پر اسلام کا موقف**
جنات ایک ایسی مخلوق ہیں جو اللہ کی پیدا کردہ ہیں اور انسانوں کی طرح عقل و شعور رکھتی ہیں۔ یہ مخلوق جسمانی اور روحانی دونوں صورتوں میں موجود ہے، تاہم انسانوں کی نظر سے یہ پوشیدہ ہیں، اسی لیے ان کا نام "جن" رکھا گیا۔ جنات کی اصل مٹی نہیں بلکہ آگ ہے، جبکہ انسان کی تخلیق کی بنیاد مٹی پر رکھی گئی ہے۔ جنات میں بھی مرد اور عورت کی مانند، جنس کی تفریق موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جنات کو مختلف قسموں میں پیدا کیا، اور ان کی تخلیق کے بارے میں قرآن و سنت میں متعدد جگہ ذکر ملتا ہے۔ قرآن و سنت کی رو سے جنات اور فرشتے حقیقت ہیں اور ان کا انکار کفر کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو دن کے وقت، جنات کو رات کے وقت، اور حضرت آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن پیدا فرمایا۔ جنات کا تعلق آگ سے ہے، اور وہ زمین پر فساد و خونریزی کرنے والے تھے، جس کا سدباب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو زمین پر بھیجا۔
**جنات کی اقسام اور ان کا کردار**
جنات کی تین بنیادی اقسام ہیں:
1. وہ جنات جو زمین پر مخلوقات کی صورت میں پائے جاتے ہیں، جیسے سانپ، بچھو اور کیڑے مکوڑے۔
2. وہ جنات جو ہوا میں اڑتے ہیں۔
3. وہ جنات جو آخرت میں حساب و عذاب کے مستحق ہوں گے۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنات کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے، اور ان میں سے بعض مسلمان، کافر، یہودی اور مجوسی ہوتے ہیں۔ جنات میں بھی فرقات اور فرقے ہیں، جیسے انسانوں میں مختلف فرقے ہوتے ہیں۔ وہ جنات جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لائے، مسلمان ہیں اور وہ جنات جو انکار کرتے ہیں، کافر ہیں۔ ایمان والے جنات، نماز، روزہ اور تلاوت قرآن کے پابند ہوتے ہیں۔
**جنات اور انسانوں کے تعلقات**
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ ایک دن آپ ایک مجلس میں بیٹھے تھے اور اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ جب آپ اندر گئے تو وہاں صرف حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ہی موجود تھے، باقی کوئی انسان نظر نہیں آیا۔ حضرت حسن بصری نے بتایا کہ جنات کی ایک جماعت تھی جو تلاوت قرآن سننے آئی تھی اور پھر واپس چلی گئی۔
قرآن کی تلاوت جنات کے لیے بھی برکت کا باعث بنتی ہے، اور جو جنات ایمان لاتے ہیں، وہ انسانوں کے ساتھ مل کر عبادت کرتے ہیں۔ جنات کی موجودگی، انسانوں کی زندگی میں خیر و برکت کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر ان گھروں میں جہاں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہو۔
**جنات کے ساتھ انسان کا تعلق اور ان سے بچاؤ**
جنات بھی انسانوں کی طرح ڈرتے ہیں اور ان سے خوف کھاتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ جنات سے بچنے اور ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے ذکر الہٰی اور دعاؤں کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ قرآن کی مخصوص آیات جیسے آیت الکرسی، سورۃ فلق، اور سورۃ ناس کا پڑھنا جنات اور شیطان کے اثرات سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آیت الکرسی قرآن کی تمام آیات کا سردار ہے اور اس کا پڑھنا انسان کو جنات اور شیطان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی طرح سورۃ فلق اور سورۃ ناس بھی ہر قسم کے جادوٹونے، نظر بد اور شیطانی اثرات سے حفاظت فراہم کرتی ہیں۔
**جنات کی حقیقت اور انسان کے لیے ان کا مقصد**
جنات کی تخلیق کا مقصد بھی انسانوں کی طرح اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ جنات بھی انسانوں کی طرح آزمائش میں ہیں اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ جنات کا اصل مقصد اللہ کی رضا کی تلاش ہے، لیکن ان میں سے کچھ جنات شیطان کے پیروکار بن گئے اور انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسلام میں جنات کو اللہ کی ایک مخلوق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، اور ان کے بارے میں بے جا خوف اور افواہیں پھیلانا منع ہے۔ جنات کے بارے میں ہمارے عقائد قرآن اور حدیث پر مبنی ہونے چاہئیں، اور ہمیں ان کے ساتھ تعلقات میں محتاط رہنا چاہیے، تاکہ ہم اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکیں۔
**نتیجہ**
جنات کی حقیقت اور ان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اسلام ایک واضح اور مفصل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جنات بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے ساتھ سچائی اور ایمان کی روشنی کے ذریعے تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کے ذکر اور عبادت میں پورے دل سے مخلص ہو کر ہم جنات کے شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں برکت لانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

Comments
Post a Comment